Hamid Mir Shot, who did and why?

415
0
Share:
518202346_3_o

​​حامد میر پر حملہ کیسے ہوا، کس نے کرایا اور کیوں
محمد عبد الحمید

پانی صاف ہو تو اس کی تہ نظر آ جاتی ہے لیکن اگر اسے گدلا کر دیا جائے تو سچائی جاننا مشکل ہو جاتا ہے۔ حامد میر پر حملہ کے معاملہ میں خود اس کے اپنے ادارہ نے اتنی گرد اڑائی ہے کہ بہت کچھ دھندلا گیا ہے۔

حملہ کے بارے میں کئی سوال پیدا ہوئے ہیں، جن کے جواب مشکل نہیں۔ تاہم جوابات سے مزید سوالات پیدا ہوں گے کیونکہ ساری تفصیلات ظاہر نہ ہوئیں اور غالباً کبھی ہوں گی بھی نہیں۔ (اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔)

اب تک جو کچھ معلوم ہے اس کی بنا پر اور کچھ قیاس سے ہم ایک ایک کر کے سوالوں کے جواب تلاش کرتے ہیں۔

سوال: واردات کیسے کی گئی؟

جیو نے ’’جیو فینسنگ‘‘ کے نام سے واردات کی ڈرامائی تشکیل دکھائی ہے، جو موقع پر موجود لوگوں کی بتائی گئی تفصیلات کے مطابق تھی۔ ایک آدمی ہاتھ میں 9 ایم ایم پستول پکڑے کار کے ساتھ ساتھ چل رہا ہے اور کھلی کھڑکی میں سے گولی چلاتا ہے۔ اتنے بھونڈہ طریقہ سے قاتلانہ حملہ وہی کر سکتا ہے، جس کی نیت قتل کی نہ ہو۔ اگر مارنا ہی تھا تو گولی سر پر یا سینہ پر ماری جاتی۔ رانوں پر مارنے کی کیا تک تھی؟

جنھوں نے قتل کرانا ہوتا ہے وہ اتنے اناڑی نہیں ہوتے۔ کار میں بیٹھے ہوئے کو قتل کرنا آسان نہیں ہوتا، وہ بھی چلتی سڑک پر۔ (احمد رضا قصوری پر چلتی کار میں حملہ ہوا تو نشانہ ان کی بجائے ان کے والد بن گئے۔) کار سے باہر گولی کا نشانہ بنانا کہیں آسان ہوتا ہے۔ (گورنر سلمان تاثیر کا قتل اسی طرح ہوا تھا۔)

اگر واقعی قتل کرانا ہوتا تو دو ٹیمیں لگائی جاتیں۔ ایک ٹیم موٹر سائیکل کار کے سامنے کھڑا کر کے کار کو روکتی اور ڈرائیور پر گولی چلاتی تاکہ فرار ناممکن ہو جائے۔ دوسری ٹیم خود کار ہتھیار سے صرف چھ نہیں، بہت سی گولیاں چلاتی، وہ بھی خاص طور پر سر اور سینہ پر۔ اس طرح موقع پر ہی یقینی طور پر ہلاکت ہو جاتی۔

کار میں سوار کسی کو قتل کرنے کا کہیں موثر طریقہ یہ ہے کہ کار کے نیچے بم لگا دیا جائے۔ جب کار سڑک پر آئے تو ریموٹ کنٹرول سے بم چلا دیا جائے۔ نہ کوئی نشان بچتا ہے اور نہ کوئی دھماکہ کرنے والے کو دیکھ پاتا ہے۔ ۔ یہ بم مقناتیس سے کار کے نیچے چپکا دیا جاتا ہے۔ اس میں ایک منٹ سے بھی کم وقت لگتا ہے۔ حامد میر کی کار کے نیچے ہوائی اڈہ کی پارکنگ میں آسانی سے بم لگایا جا سکتا تھا، جس دوران ڈرائیور اور محافظ انھیں لینے کے لیئے اڈہ کی عمارت کے برامدہ میں انتظار کر رہے تھے۔

مقصد قتل نہیں قتل کا ڈرامہ کرنا تھا۔ کچھ گولیاں کار پر باہر سے لگنی تھیں، جس پر ڈرائیور کار بھگا کر لے جاتا۔ حامد میر کی ٹانگوں پر بھی چند گولیاں لگائی جاتیں تاکہ وہ لگ بھی جاتیں اور زخم بھی خطرناک نہ ہوتا۔ (بالکل اس طرح جیسے پولیس مقابلہ کے بعد چند سپاہیوں کی پنڈلیوں پر گولی سے ہلکے سے زخم لگائے جاتے ہیں تاکہ مقابلہ حقیقی نظر آئے۔) گھبراہٹ میں اور اناڑی پن کی وجہ تین گولیاں جسم پر کچھ اوپر لگ گئیں۔

سوال: واقعہ اسی وقت کیوں ہوا؟

اس طرح کا واقعہ کسی خاص مقصد سے اور پوری منصوبہ بندی سے کیا جاتا ہے۔ جنگ ۔۔ جیو گروپ نے جس طرح واقعہ کے فورا بعد آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ اور اس کے سربراہ پر حملہ کا الزام لگایا اور اس کی بار بار تکرار کی گئی اس کا واضح مقصد انھیں کسی بھی تفتیش سے پہلے اور کسی بھی ثبوت کے بغیر مجرم ٹھہرانا تھا۔

حامد میر کا یہ کہنا کہ انھیں کچھ ہوا تو آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ اور اس کے سربراہ ذمہ دار ہوں گے محض الزام ہے، ثبوت نہیں۔ اگر انہیں یقین تھا کہ انھیں قتل کیا جائے گا یا کرنے کی کوشش کی جائے گی تو وہ کہیں پہلے اپنے اخبار اور چینل پر الزام لگاتے، پولیس میں رپورٹ درج کراتے اور تفتیش کا مطالبہ کرتے۔ ان کے لیئے عدالت سے رجوع کرنا بھی مشکل نہ تھا۔ اس طرح پیش بندی ہو جاتی۔ لیکن پیشگی اور مبہم الزام لگانا دراصل خود کو دوسروں کی نظروں میں اہمیت دینا تھا۔

سوال: یہ واقعہ کراچی ہی میں کیوں ہوا؟

ہندوستانی خفیہ ایجنسی، را، سالہا سال سے کراچی میں اپنے کارندے تخریبی کاروائیوں کے لیئے تیار کر رہی ہے۔ اس کا سب سے بڑا مظاہرہ بے نظیر کے قتل کے فوراً ہوا، جب وسیع پیمانہ پر تخریب کاری ہوئی۔ ریلوے سٹیشنوں اور بینکوں کو خاص طور نشانہ بنایا گیا، حالانکہ ان کا قتل سے دور کا بھی تعلق نہ تھا۔

کراچی میں ہر طرح کے جرائم کے لیئے فضا سازگار ملتی ہے۔ اگر کوئی حامد میر پر گولی چلاتا ہے تو دیکھنے والے یہی سمجھیں گے کہ کوئی عام سی واردات ہو رہی ہے، جو شہر کے لیئے غیر معمولی بات نہیں۔ شہر کی سیاسی پارٹیاں بھی، بقول عدالت عظمی، جرائم پیشہ افراد کی آماج گاہ ہیں۔ بڑی سیاسی جماعتوں کے ہندوستان سے تعلقات بھی ظاہر ہیں، جس سے سرکاری اہل کاروں کی مدد آسانی سے مل جاتی ہے۔

پھر اس شہر میں جرم کرنے کے لیئے کرایہ کے آدمی بھی آسانی سے مل جاتے ہیں۔ انھیں اس سے غرض نہیں ہوتی کہ ان کا نشانہ کون ہے اور کیوں۔ انھیں صرف کام کا معاوضہ چاہیئے۔ وہ زندگی سے پہلے سے ہی اتنے بےزار ہوتے ہیں کہ انھیں پکڑے جانے کی بھی پروا نہیں ہوتی۔ وہ یہ بھی نہیں بتا سکتے کہ جرم کے پیچھے دراصل کون ہے۔

حملہ کرنے والوں کو معاوضہ تو دے دیا گیا ہوگا لیکن اس کے بعد انھیں اگر قتل نہیں کرایا گیا تو غائب ضرور کرا دیا گیا ہوگا۔ پولیس کیسے انھیں پکڑے گی اور نہیں پکڑ سکے گی تو کیس عدم پتہ کی بنا پر داخل دفتر ہو جائے گا۔

سوال: حملہ حامد میر پر ہی کیوں ہیں؟

صحافی جاسوس ایجنسیوں کے لیئے بڑے مددگار ہوتے ہیں کیونکہ عام جاسوسوں کے برعکس وہ پیشہ ورانہ سرگرمیوں کی آڑ میں وہ کسی سے، کہیں بھی مل سکتے ہیں اور کچھ بھی معلوم کر سکتے ہیں۔ بیسویں صدی کا سب سے بڑا جاسوس، کم فلبی، جو بیک وقت برتانیہ، امریکہ اور (حقیقی طور پر) سوویت یونین کے لیئے کام کرتا تھا، مغربی ایشیا (مشرق وسطی) میں لندن کے مشہور اور ممتاز ہفت روزہ جریدوں، اکانومسٹ اور آبزرور، کا نامہ نگار تھا۔

ہندوستانی جاسوسی ایجنسی، را، بھی ہمارے بہت سے صحافیوں سے کام لیتی ہے۔ یہ لوگ اخبار اور ٹیلی ویژن میں اعلا عہدوں پر کام کرتے ہیں اور ہر معاملہ میں کھل کر ہندوستان کے قصیدے گاتے ہیں اور اس کے موقف کو اپنی حکومت کے موقف پر ترجیح دیتے ہیں۔ اپنی فوج اور اس کے اداروں کی موقع بموقع مذمت بھی کرتے رہتے ہیں۔ ان ایجنٹوں کا امیج ابھارا جاتا ہے تاکہ ان پر آسانی سے ہاتھ نہ ڈالا جا سکے۔ اگر ہاتھ ڈالا بھی جائے تو اسے آزادی صحافت کا مسئلہ بنا دیا جائے، ساتھی ایجنٹ بھی واویلا کرنے لگیں اور امریکہ کی بنوائی ہوئی صحافیوں کی جعلی عالمی تنظیمیں بھی شور مچانے لگیں۔ کچھ عرصہ پہلے اسلام آباد میں حامد میر کی کار میں بم لگانے کا ڈرامہ بھی اسی لیئے کیا گیا۔ مقصد آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ کو بدنام کرنا تھا۔ موجودہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا تھا۔

سوال: واقعہ در حقیقت کیوں کرایا گیا؟

نواز شریف سے زیادہ ہندوستان کا خدمت گزار حکمران ہماری تاریخ میں کبھی نہیں گزرا۔ وہ ہندوستان کی ہر بات ماننے کو تیار ہیں اور بدلہ میں اپنے ملک کے لیئے کچھ بھی نہیں چاہتے۔ چنانچہ ہندوستان ان کی حکومت مضبوط کرنے کے لیئے سب کچھ کرے گا۔ ان دنوں حکومت اور فوج میں کشیدگی میں ہے۔ چنانچہ ہندوستان حکومت کی کمزور پوزیشن کو سہارا دینے کے لیئے کوئی بھی ڈرامہ کرے گا۔ جب آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ اور اس کے ساتھ فوج پر الزام تراشی ہوگی تو ظاہر ہے نواز شریف کی پوزیشن بہتر ہوگی۔

خواجہ آصف نے حامد میر کے معاملہ میں آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نکتہ چینی برداشت کرنے کی نصیحت کی ہے۔ اس معاملہ میں نواز شریف کی بڑی دیر تک خاموشی بھی بہت کچھ کہہ رہی ہے۔ یقیناً حکمران جنگ ۔۔ جیو کی آئی۔ ایس۔ آئی۔ پر الزام تراشی پر ناخوش نہیں۔

سوال: حامد میر نے آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ پر الزام کیوں لگایا؟

جب کوئی صحافی کسی شخص یا ادارہ پر لگاتار الزام تراشی کرتا رہے تو ظاہر ہے اسے خطرہ ہوگا کہ اس کے خلاف بھی کچھ نہ کچھ ہوگا۔ ہندوستان (اور اس کے ساتھ امریکہ اور اسرائیل) کے لیئے کام کرنے والے کو ظاہر ہے آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ سے کاروائی کا خدشہ ہوگا، کیونکہ یہ ایجنسی دشمن ملکوں کے جاسوسوں پر نظر رکھتی ہے۔ آخر محب وطن صحافیوں کو آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ سے خطرہ کیوں نہیں؟ چور پولیس کی برائیاں کرتا رہے تو وجہ ظاہر ہےْ۔

سوال: ملک دشمن صحافیوں کے خلاف کاروائی کیوں نہیں کی جاتی؟

فوج اور آٗئی۔ ایس۔ آئی۔ کے خلاف ہندوستان اور امریکہ کے ایجنٹ صحافیوں کے خلاف کاروائی بڑی آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ ان کے غیرملکی رابطے اور ان کے آمدنی کے ذرائع ظاہر کیئے جا سکتے ہیں، جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں۔ گزشتہ کئی سالوں میں اس قسم کی کوئی کاروائی نہیں ہوئی۔ ستو یا کچھ اور پیئے ہوئے سابق آرمی چیف کے کان پر جوں تک نہ رینگتی تھی۔ یہاں تک کہ میموگیٹ جیسے سنگین معاملہ میں بھی حسین حقانی اور آصف زرداری کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت کے باوجود درگزر سے کام لیا گیا۔ اب آئی۔ ایس۔ پی۔ آر۔ کے سربراہ نے قانونی کاروائی کا اعلان کیا ہے۔ کیا پہلے کی طرح اس دفعہ بھی درگزر ہوگی؟

سوال: ابتدائی رپورٹ کیوں درج نہیں کرائی جا رہیَ؟

جنگ ۔۔ جیو گروپ ’’شفاف تفتیش‘‘ کا مطالبہ کر رہا ہے لیکن یہ کیسے ممکن ہے جب ابتدائی رپورٹ ہی درج نہیں کرائی جا رہی اور نہ حامد میر کے ڈرائیور اور محافظ کو بیان دینے کے لیئے پیش کیا گیا ہے؟ کار کا معائنہ بھی نہیں کرنے دیا گیا۔ رپورٹ درج کرانے میں جتنی تاخیر ہو، اتنا ہی کیس کمزور ہو جاتا ہے کیونکہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ مشاورت اور سازش سے درج کرائی گئی۔ صرف اسی بنا پر بہت سے ملزم بری ہو جاتے ہیں۔ کیا رپورٹ درج کرانے میں تاخیر اس لیئے کی جا رہی ہے کہ پولیس صحیح تفتیش نہ کر سکے؟

سوال: کمشن کیوں بنوایا گیا ہے؟

ابتدائی رپورٹ درج کرانے کی بجائے کمشن مقرر کرانے پر کیوں زور دیا گیا اور قائم کرا بھی لیا گیا؟ عدالتی کمشن تحقیقات کرتا ہے، تفتیش نہیں، جو پولیس کا کام ہے۔ ٓآصف زرداری نے بھی بے نظیر قتل کیس میں تفتیش کی بجائے تحقیق پر زور دیا تھا اور اس کے لیئے اقوام متحدہ کا کمشن بنوایا تھا۔ کمشن کی تحقیق اول تو حتمی نہیں ہوتی۔ پھر اس کی سفارشات پر عمل بھی ضروری نہیں۔ نہائت سنگین معاملہ پرایبٹ آباد کمشن بنایا گیا تھا۔ اس کی رپورٹ وزیر اعظم کے پاس پڑی ہے لیکن انھوں نے ابھی تک پڑھی ہی نہیں۔ پھر یہ بھی قابل غور ہوگا کہ حکومت کمشن کا دائرہ کار کیا متعین کرتی ہے۔ پھر کمشن کے قیام کے بعد سب اس کی رپورٹ کا انتظار کرنے لگیں گے اور تفتیش سست پڑ جائے گی۔ حملہ کرانے کا مقصد بھی یہی تھا۔

Share:

Leave a reply


seven − = 1